ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / امریکا:بریفنگ میں صحافیوں پر پابندی ناقابل قبول اور جمہوریت کی توہین

امریکا:بریفنگ میں صحافیوں پر پابندی ناقابل قبول اور جمہوریت کی توہین

Mon, 27 Feb 2017 11:00:31    S.O. News Service

واشنگٹن ، 26؍فروری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)وائٹ ہاؤس کی جانب سے یومیہ پریس بریفنگ میں چند صحافتی اداروں کو ممنوع قرار دینے کے رد عمل میں ذرائع ابلاغ کیکئی امریکی اداروں نے انتظامیہ کے اس متنازعہ عمل کو ناقابل قبول اور جمہوری تقاضوں کی توہین قرار دیا ہے۔سال دو ہزار سولہ کے دوران اب تک دنیا کے مختلف ملکوں میں کم از کم چوہتر صحافی ہلاک یا لاپتہ ہو چکے ہیں۔ یہ تعداد دو ہزار پندرہ کے مقابلے میں کم ہے لیکن صحافیوں کو بین الاقوامی سطح پر ابھی بھی شدید خطرات کا سامنا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے چند مخصوص صحافیوں اور اداروں کو جمعے چوبیس فروری کے روز منعقدہ وائٹ ہاؤس کی یومیہ پریس بریفنگ میں شرکت سے روکے جانے پر شدید رد عمل دیکھنے میں آیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کورسپانڈنٹس ایسوسی ایشن یا نامہ نگاروں کی تنظیم کے مطابق اس فیصلے کے شدید مذمت جاری ہے اور اس سلسلے میں متعلقہ عملے سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے ایک اینکر جیک ٹیپر نے اسے غیر امر یکی اقدام قرار دیا ہے۔ علاوہ ازیں ادارے کے محکمہء کمیونیکیشن نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں لکھا ہے کہ یہ ایک ناقابل قبول پیش رفت ہے۔ امریکی ادارے کے مطابق، جب وہ حقائق بیان کیے جائیں، جو انتظامیہ کو پسند نہیں تو اس طرح کا رد عمل ظاہر کیا جاتا ہے۔ ہم اپنی رپورٹنگ جاری رکھیں گے۔ اسی طرح ایک اور چوٹی کے ادارے نیو یارک ٹائمز نے اپنے ایک اداریے میں لکھا ہے کہ ذرائع ابلاغ کے چند اداروں کی ممانعت جمہوری طور طریقوں کی توہین ہے اور کچھ نہیں۔یہ رد عمل در اصل جمعے کو ہونے والی پیش رفت کے تناظر میں سامنے آیا جب انتظامیہ نے وائٹ ہاؤس کی یومیہ پریس بریفنگ سے سی این این، نیو یارک ٹائمز اور کئی دیگر ایسے بڑے اداروں کو خارج کر دیا جو عموماً انتظامیہ پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ بی بی سی، دا لاس اینجیلس ٹائمز اور کئی ایجنسیاں بھی بریفنگ کا حصہ نہ تھیں۔ قدامت پسند اور دوست مانے جانے والے فوکس نیوز، ون امریکا اور برائٹ بارٹ جیسے ادارے بریفنگ میں موجود تھے، جو بند دروازوں کے پیچھے ہوئی۔اس پیش رفت کی صرف صحافتی اداروں اور شخصیات ہی کی جانب سے مذمت نہیں کی گئی بلکہ متعدد سیاستدانوں نے بھی اس کی مخالفت کی۔ ڈیموکریٹ سیاستدان، ماہر اقتصادیات اور سابق لیبر سیکرٹری روبرٹ ریش نے کہا، ٹرمپ بطور صدر پبلک سرونٹ ہیں اور سچ عوام کی ملکیت ہے۔ انہوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر اپنی ایک تحریر میں لکھا کہ ٹرمپ مسلسل جھوٹ بولتے ہیں اور ان کی پکڑائی کرنے والے ذرائع ابلاغ کو پھر وہ سزا دیتے ہیں۔ ان کے بقول اس قسم کے اقدامات کی توقع ایک آمر سے تو کی جا سکتی ہے تاہم امریکا کے صدر سے نہیں۔


Share: